Karna Hoga Us Ko Aik Wada Mujh Se

karna hoga us ko aik wada mujh se

karna hoga us ko aik wada mujh se

یہ رات ختم ہو جاے تو سویرا ہو گا
آج نہیں تو ایک دن وہ میرا ہو گا
انتظار کروں گی آخر تک اس کا
کبھی تو گزر اس کا دل کے راستے ہو گا
چھوڑا تھا جہاں پر بات کو اس نے
وہیں سے آغاز کریں گے
نہ کوی شرم نہ لہاظ کریں گے
ہر حد کو اس دن پار کرنا ہو گا
اسے پیار بے شمار کرنا ہو گا
ٹوٹ کر ایک دوسرے میں یوں سمٹ جایں گے
میں اس کا وہ میرا لباس ہو گا
جو کاٹا وقت اس کی یاد میں
اس سے حساب اس کا پورا ہو گا
کرنا ہو گا اس کو ایک وعدہ مجھ سے
اب کے وہ صرف میرا ہو گا

Poet : Shafaq

Leave a Reply

Submit Your Poetry To Us : Submit Here