Kabhi To Yeh Raat Thamy Gi

Kabhi To Yeh Raat Thamy Gi

Kabhi To Yeh Raat Thamy Gi

 

ہر شب
آفتاب نکلتے ہی
ماضی کی کھڑکی کھولے
ہجر کی سیج سجائے
میرے دل کے سارے پتلے
تاروں کی چادر اوڑھے
غم کی پائل پہنے
تیری یاد روبرو رکھے
اس قدر ناچتے ہیں
کہ آہ و پکار کے
اس شور میں
میرے زخم کئی بار
ادھیڑے جاتے ہیں
لہو بہتا رہتا ہے
درد کی ٹیسیں ہر رات
میرے وجود کو
اس آگ میں دہکاتی ہیں
اور میں گونگا بہرہ بنے چپ چاپ
یہ منظر دیکھتا رہتا ہوں
کبھی جو تھک کر چلاوں
تو تیری یاد کے آسیب
مجھے جکڑ لیتے ہیں
اور میں اپنا شکستہ وجود لیے
بے بسی سمیٹے
اسی آس میں جلتا رہتا ہوں
کہ کبھی تو یہ رات تھمے گی

اسماء طارق

Leave a Reply

Submit Your Poetry To Us : Submit Here