Jis Se Nazarain Mila Ke Dil Ko Qarar Ata Hai

jis se nazarain mila ke dil ko qarar ata hai

jis se nazarain mila ke dil ko qarar ata hai

اپنی بدبختی پے آنسو بہاتے ہیں ہم
کل جسے پانا تھا آج اُس کو بھلاتے ہیں ہم

جس سے نظریں ملا کہ دل کو قرار آتا ہے
آج اُس انسان کے دیدار سے گھبراتے ہیں ہم

کل تک جو لمحے میرے سب سے حسین ہوا کرتے تھے
آج اُن لمحوں کو بُرا وقت ٹھراتے ہیں ہم

حال دل سے تھا جو جو میرے واقف کل تک
آج چھرا بھی اُسے اپنا نہ دیکھاتے ہیں ہم

جس کو آنکھوں پے بیٹھایا تھا کل تک ہم نے
آج اُس انسان کو ٹھوکر سے ہٹاتے ہیں ہم

 

سیدہ حزیفہ

Leave a Reply

Submit Your Poetry To Us : Submit Here