Jis Din Yaad Ati Hai Mujhy Be Bas Woh

jis din yaad ati hai mujhy be bas woh

jis din yaad ati hai mujhy be bas woh

کھول کھول کے بایاں میرے حالات کرتے ہیں۔۔
انہیں لوگوں سے ہنس ہنس کے ہم دیکھو بات کرتے ہیں۔۔

سفر کتنا ہی مشکل ہو اس میں کتنی طوالت ہو۔۔
مایوسیوں میں بھی ہم تو امیدیں ساتھ رکھتے ہیں۔۔

میرے دشمن میرے زخموں پر کتنے ہی نمک چھیڑ کیں۔۔
ہم اُن کے درد پے پھر بھی شفقت سے ہاتھ رکھتے ہیں۔۔

بس چپ رہ کے ہم دیکھتے رہتے ہیں لوگوں کو۔۔
جو وفا بھول جاتے ہیں جفائیں یاد رکھتے ہیں۔۔

جس دن یاد آتی ہے مجھے بے بس وہ سیّدہ ۔۔
قسم اُس روز ہم خود سے بھی نہیں بات کرتے ہیں۔۔
سیّدہ حذیفہ

Leave a Reply

Submit Your Poetry To Us : Submit Here