Azad Gaon Ki Kaliyaan

azaad gaon ki kaliyaan

azad gaon ki kaliyaan

“آزاد گاٶں کی کلیاں”
آزاد گاٶں کی پانچ گلیاں
پھرتی ان میں حسین کلیاں
کچھ تو ایسی گم سی رہتی ہیں
بے سبب یوں چپ سی رہتی ہیں
یاد کر کے کسی اجنبی کو
دل میں اپنے نم سی رہتی ہیں
اداسی ان کی جمال ان کا
خدایا لے جا وبال ان کا
کچھ تو میک اپ کے بند توڑے
سیاہ زلفوں کے خم توڑے
پہن کے سرخ گلابی جوڑے
ہوا میں خوشبو کے بم پھوڑے
سب دیوانے رک سے جاتے ہیں
اس گلی میں بک سے جاتے ہیں
لگا کےہونٹوں پہ سرخ سرخی
سب دیوانوں کو دے کے پرکی
ایزی پیسہ کروا رہی ہیں
چونا سب کو لگا رہی ہیں
لے کے ایسے سیلاب آتی ہیں
اٹھا کے نظریں جناب آتی ہیں
وہ جو شب بھر پڑھنے والی
تھکن کی سیڑھی چڑھنے والی
اس فلک کی ستاریاں ہیں
وہ جو علمی چنگاریاں ہیں
خوشبو سے ہی ان گلا بوں کی
اس چمن کی بہاریاں ہیں
عجیب ہیں کچھ ایسی کڑیاں
زباں سے چلتی جنکی چھریاں
وہ جو سب سے لڑنے والی
نہ کسی سے ڈرنے والی
در پہ لالے کے جا کے یونہی
بے تحاشا یوں چر نے والی
مکھڑا ان کا دبا کے رکھنا
ان سے اللہ بچا کے رکھنا
زرد رنگ کا لباس اوڑھے
وہ جو پر یاں حجاب اوڑھے
اتنے لوگوں کا رش بھلا کر
جھکا کہ نظریں آ رہی ہیں
لے کے آنکھوں میں حیا کا جام
سب دیوانوں کو پلا رہی ہیں
وہ جو سب کو تکنے والے
اب آنکھیں اپنی جھکا رہے ہیں
زینت ہے جو مومنوں کی
وہی غیرت دکھا رہے ہیں
معصوم چہروں کی اس حیا سے
نرم ہونٹوں کی اس دعا سے
بڑھ رہا اس شجر کا
میرے قیصر کمال سارا جمال سارا

Ghazal by : Qaisar Farooq

Leave a Reply

Submit Your Poetry To Us : Submit Here